ویلنٹائن ڈے بھی ایک خرافت ہے۔

ویلنٹائن ڈے بھی ایک خرافت ہے۔

ویلنٹائن ڈے یہ بھی یہود و نصاری کی خرافات میں سے ایک خرافت ہے۔ اور اسکو نام نہاد مسلمان یوں مناتے ہیں۔ جیسے تسکین قلب کے طالب ہوں جبکہ ویلنٹائن ڈے کی حقیقت کو دیکھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اسکی بنیاد ایک غیر مسلم کے نام پر ہے ۔

سترہویں صدی عیسوی میں روم میں ویلنٹائن نام کا ایک پادری ایک راہبہ کی محبت میں مبتلا ہو گیا۔ چونکہ عیسائیت میں راہبوں اور راہبات کیلئے نکاح ممنوع تھا۔ اس لیئے ایک دن ویلنٹائن نے اپنی معشوقہ کی تشفی کیلئے اسے بتایا کی اسے خواب میں یہ بتایا گیا ہے کہ 14 فروری کا دن ایسا ہے۔ کہ اس میں اگر کوئی راہب یا راہبہ جسمانی تعلقات بھی قائم کرلیں تو اسے گناہ نہیں سمجھا جائے گا۔

راہبہ نے اس پر یقین کر لیا۔ اور دونوں سب کچھ کر گزرے کلیسا کی روایات کی یوں دھجیاں اڑانے پر ان کا حشر وہی ہوا جو عموماً ہوا کرتا تھا۔ یعنی ان دونوں کو قتل کر دیا گیا۔ تو کچھ دن بعد لوگوں نے انہیں محبت کا شہید جان کر عقیدت کا اظہار کیا۔ اور ان کی یاد میں یہ دن منانا شروع کردیا۔

2

اس کے علاوہ بھی وجوہات ملتی ہیں دن منانے کی الغرض مسلمان ویلنٹائن ڈے کے نام پر شرم و حیا کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔ اور بے حیائی،فحاشی اور عریانیت کا بازار گرم کر دیتے ہیں۔

جبکہ اسلام تو ہمیں ہر بے حیائی،فحاشی اور عریانیت سے بیزار کرتا ہے بلکہ زنا سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آنکھیں زنا کرتی ہیں۔ ان کا زنا نامحرم کو دیکھنا ہے۔ کان زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا نا محرم کی بات سننا ہے۔ اور زبان زنا کرتی ہے کہ اسکا زنا نا محرم کے ساتھ بولنا ہے

اور ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں کہ ان کا زنا نا محرم کو چھونا ہے (الصحیح المسلم)۔ زرا سوچیئے کہ ہم ویلنٹائن ڈے کس تناظر میں منارہے ہیں۔ اور ہمیں کیا مل رہا ہے یقیناً ہم یورپ کی ثقافت کو فروغ دے رہے ہیں۔ آئیے اپنے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو فروغ دیتے اور ویلنٹائن ڈے سے بیزار ہوتے ہیں۔
اللّٰہ پاک ہم سب کو حقائق سے آشنا فرما کر در مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی غلامی نصیب فرمائے آمین۔

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں