لتا منگیشکر کوویڈ 19 کے ساتھ مہینوں طویل جنگ کے بعد انتقال کر گئیں۔

لتا منگیشکر کوویڈ 19 کے ساتھ مہینوں طویل جنگ کے بعد انتقال کر گئیں۔

نئی دہلی – لیجنڈری ہندوستانی گلوکارہ لتا منگیشکر اتوار کو 92 سال کی عمر میں کورونا وائرس کا شکار ہوگئیں۔

ہندوستانی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ لتا منگیشکر، جنہیں ’نائٹنگل آف انڈیا‘ کہا جاتا تھا۔ کووِڈ کی سنگین پیچیدگیوں کی وجہ سے انتقال کر گئیں۔

بزرگ گلوکار کو پہلی بار جنوری کے پہلے ہفتے میں نجی اسپتال کے آئی سی یو میں داخل کیا گیا تھا۔ اسے نمونیا کی بھی تشخیص ہوئی تھی اور ہسپتال میں داخل ہونے کے دوران ان کی حالت نازک رہی۔ لتا کی دیکھ بھال کرنے والے ہندوستانی معالج نے بتایا کہ گلوکارہ کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں دوبارہ وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔

منگیشکر کی موت سے دنیا سوگوار ہے اور مشہور شخصیات، سیاست دانوں اور سماجی کارکنوں نے ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ لتا کی موت کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور دیگر نے سوشل میڈیا پر جا کر ٹویٹس شیئر کیں۔

2

ستمبر 1929 میں پیدا ہونے والی لتا نے اپنے والد پنڈت دینا ناتھ منگیشکر سے موسیقی حاصل کی جو کہ ایک مراٹھی موسیقار تھے۔ اس نے مختلف نسلوں کے میوزک گریٹز کے ساتھ کام کیا کیونکہ اس نے سدا بہار نمبر فراہم کیے جو آج تک متعلقہ ہیں۔

’کوئن آف میلوڈی‘ نے 1943 میں مراٹھی فیچر گجابھاؤ کے لیے اپنا پہلا ہندی گانا ماتا ایک سپوت کی دنیا بدل دے ریکارڈ کیا۔

“تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم،” “گوری ہے کلائیاں،” “لگ جا گلے،” “ساون کا ماہینا،” “پیار کیا سے ڈرنا کیا،” “اے میرے وطن کے لوگون” کے سب سے لازوال ٹریکس ہیں۔ لتا منگیشکر۔

لیجنڈ گلوکارہ کو بھارت کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازا گیا۔ فرانس نے انہیں 2007 میں اپنے اعلیٰ ترین سول اعزاز، آفیسر آف دی لیجن آف آنر سے بھی نوازا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں