نیب کرپشن کیس میں خورشید شاہ کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، سپریم کورٹ

نیب کرپشن کیس میں خورشید شاہ کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا، سپریم کورٹ

اسلام آباد – قومی احتساب بیورو (نیب) پیپلز پارٹی کے رہنما۔ خورشید شاہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سیاستدان کی درخواست ضمانت پر اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا۔

عدالت عظمیٰ کے جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے۔ کہ انسداد بدعنوانی کا نگراں ادارہ پیپلز پارٹی کے رہنما پر کرپشن کے الزامات ثابت نہیں کر سکا۔

اکتوبر 2021 میں۔ سپریم کورٹ نے 10 ملین روپے کے ضمانتی مچلکے پر شاہ کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ نیب نے سیاسی رہنما کو کوئی وجہ بتائے بغیر 2 سال تک حراست میں رکھا۔

اس میں مزید کہا گیا کہ نیب نے خورشید شاہ کی جانب سے جمع کرائی گئی سیل ڈیڈ کو مسترد کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں دیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ خورشید شاہ کے خلاف غیر قانونی بینک ٹرانزیکشنز کے الزامات کو قبول کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔

اس میں مزید کہا گیا کہ نیب سیاسی رہنما کو دو سال تک حراست میں رکھنے کے باوجود ان کے خلاف حتمی ریفرنس دائر کرنے میں ناکام رہا۔

عدالت نے قرار دیا کہ خورشید شاہ کو نظر بند رکھنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔

شاہ کو قومی احتساب بیورو (نیب) سکھر چیپٹر نے 18 ستمبر 2019 کو گرفتار کیا تھا۔ جولائی 2021 میں سندھ ہائی کورٹ نے شاہ کی درخواست ضمانت خارج کر دی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی ضمانت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں