اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے

انسان کو اللہ تعالی نے کس قدر نعمتیں عطا کی ہیں کوئی انسان اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتا۔ جیسا کہ قرآن کریم میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو نہیں کر سکتے (نحل/۱۸)۔جب اللہ تعالی کی نعمتوں کا شمار کرنا انسان کی طاقت سے باہر ہے۔ تو ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا کیسے ممکن ہے


اللہ تعالی کی نعمتوں کا ہر دم شکر ادا کرنا انسان کے ذمہ واجب ہے۔ اور اللہ کی مہربانیوں سے شکر ادا کرنے کا نفع شکر ادا کرنے والے انسان کو ہی ملتا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں اور زیادہ دوں گا (ابراہیم /۱۴)۔اسی لئے بزرگان دین کا کہنا ہے شکر ادا کرنے سے حاصل شدہ نعمتیں زوال سے محفوظ ہو جاتی ہیں۔ اور غیر حاصل شدہ نعمتیں ملنا شروع ہو جاتی ہیں


اللہ تعالی کی بے شمار نعمتیں تو ایسی ہیں۔ جن کی طرف انسان کا دھیان بھی نہیں جاتا کہ یہ بھی اللہ کی نعمت ہیں۔ مثلا انسان کے جسم کے اعضاء درست طور پر کام کرنا۔ جب تک انسان کہ کسی عضو میں تکلیف یا بیماری نہ ہو اسے یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ میرے بدن کے اس حصے کا درست طور پر کام کرنا اللہ تعالی کی کتنی بڑی نعمت ہے۔

0
امریکہ میں رہنے والے کا عالم نے بتایا۔ کہ ہمارے پاس ایک ڈاکٹر صاحب مہمان آئے رات کو کھانے کے بعد مسہری کے سرہانے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر گفتگو کے بعد ہم نے کہا آرام کر لیں وہ بولے ٹھیک ہے۔ میں سو جاؤں گا آپ آرام کر لیں صبح نماز کے لیے انہیں جگانے گئے۔ تو وہ اسی طرح مسیری کے سرہانے تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے پوچھا آپ رات سے اسی طرح بیٹھے ہیں؟ آپ سوئے نہیں؟ انہوں نے کہا میں اسی طرح سوتا ہوں لیٹ کر نہیں سوسکتا۔ وجہ پوچھنے پر بتایا کہ اللہ تعالی نے انسان کے معدے کے منہ پر ایک ایسی چیز لگائی ہے۔ جو چیک وال کی طرح کام کرتی ہے یعنی اس کی وجہ سے کھانا معدے کے اندر تو جاتا ہے۔

1

لیکن اگر کوئی شخص کھانا کھا کر سر کے بل الٹا بھی کھڑا ہو جائے تب بھی کھانا واپس پلٹ کر منہ کے ذریعے باہر نہیں آتا ۔،تقریبا آٹھ سال قبل میرا وہ چیک وال خراب ہوگیا۔ اگر میں کھانا کھا کر لیٹ جاؤں تو کھانا منہ کے راستے واپس باہر آ جاتا ہے بس تب سے میں اسی طرح بیٹھ کر سوتا ہوں۔ لیٹ نہیں سکتا ۔ان کی بات سن کر احساس پیدا ہوا۔ کہ صرف نیند ہی اللہ کی نعمت نہیں بلکہ لیٹ کرسونابھی اللہ تعالی کی کتنی عظیم نعمت ہے جس کی طرف کبھی توجہ ہی نہیں ہوئی۔ تو اس کا شکر کیسے ادا کرتے


پاکستان کے مشہور و معروف عالم اور اسکالر مفتی محمد تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں۔ کہ کراچی میں گردے کے ایک اسپیشلسٹ ہیں، ان سے ایک مرتبہ میرے بھائی نے پوچھا۔ کہ آپ ایک انسان کے جسم سے گردہ نکال کر دوسرے انسان کو لگا دیتے ہیں۔ لیکن اب تو سائنس نے بہت ترقی کرلی ہے تو کوئی مصنوعی گردہ کیوں نہیں بنا لیتے۔ تاکہ دوسرے انسان کے گردے کو استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے؟


وہ ہنس کر جواب دینے لگے۔ کہ اول تو سائنس کی اس ترقی کے باوجود مصنوعی گردہ بنانا بڑا مشکل ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے گردے کے اندر جو ایک چھلنی لگائی ہے وہ اتنی لطیف اور باریک ہے۔ کہ ابھی تک کوئی ایسی مشین ایجاد نہیں ہوئی جو اتنی لطیف اور باریک چھلنی بنا سکے۔ اگر بالفرض ایسی مشین ایجاد ہو بھی جائے اور ایسی چھلنی بنا بھی لی جائے تو اس پر اربوں روپے خرچ ہوں گے۔ اور اگر اربوں روپے خرچ کر کے ایسی چھلنی بنا لی جائے تب بھی گردے کے اندر ایک چیز ایسی ہے جو ہماری قدرت سے باہر ہے۔

2

وہ چیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے گردے کے اندر ایک دماغ بنایا ہے۔ جو فیصلہ کرتا ہے۔ کہ اس آدمی کے جسم کو کتنا پانی ضرورت ہے ۔ کتنا پانی جسم میں رکھنا ہے اور کتنا پانی باہر پھینکنا ہے۔ ہر انسان کا گردہ اس انسان کے حالات کے مطابق ، اس کے جسم کے مطابق اور اس کے وزن کے مطابق یہ فیصلہ کرتا ہے۔ کہ کتنا پانی اس کے جسم میں رہنا چاہیے اور کتنا باہر پھینکنا چاہیے۔

اور اس کا سو فیصلہ فیصد درست ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ اتنا پانی جسم میں روکتا ہے۔ جتنے پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور ضرورت سے زائد پانی پیشاب کی شکل میں جسم سے باہر پھینک دیتا ہے۔ لہذا اگر ہم اربوں روپے لگا کر مصنوعی گردہ بنا بھی لیں تب بھی ہم اس کا وہ دماغ نہیں بنا سکتے جو اللہ تعالیٰ ہر انسان کے گردے میں پیدا فرمایا ہے۔۔۔۔۔!!

“تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟”

مزید پڑھیں

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں