پاکستان کی تعمیر نو، لاہور میں مشہور جین مندر کھولنے کے لیے تیار

پاکستان کی تعمیر نو، لاہور میں مشہور جین مندر کھولنے کے لیے تیار

لاہور — پاکستان نے پنجاب کے دارالحکومت میں مشہور جین مندر کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش کی ہے اور اب اسے باقاعدہ طور پر دوبارہ کھولنے جا رہا ہے۔

یہ مندر، جو لاہور کے ایک مشہور سنگم پر اپنی تمام شان و شوکت کے ساتھ کھڑا تھا۔ جسے جین مندر چوراہا کہا جاتا ہے۔ ہندوستان میں 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد مشتعل ہجوم نے اسے جزوی طور پر منہدم کر دیا تھا۔

بی۔ جے۔ پی۔ جیسی دائیں بازو کی جماعتوں کی قیادت میں ہندو جنونیوں نے بابری مسجد کو منہدم کرنے کے بعد پاکستان میں تقریباً 30 ہندو مندروں کو نقصان پہنچایا۔

اب، تقریباً 30 سال بعد۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے حکام کو ہدایت کی ہے۔ کہ وہ جین اور نیلا گمبد (بلیو ٹومب) مندروں کے مقامات کا جائزہ لیں۔ اور ان کی بحالی کے لیے اقدامات کریں۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ کام بلاتاخیر کیا جائے اور ایک ماہ میں ابتدائی رپورٹ پیش کی جائے۔

1

رکن قومی اسمبلی رمیش کمار وانکوانی، جو اقلیتوں کے حقوق سے متعلق سپریم کورٹ کے کمیشن کے رکن بھی ہیں، کہتے ہیں: ’’میں نے 2 دسمبر کو سائٹ کا دورہ کیا اور اس سلسلے میں عدالت میں بھی پیش ہوا۔‘‘

پاکستان اپنے آئین پر عمل پیرا ہے جس میں تمام مذاہب کو اپنے عقیدے پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔ میں فخر محسوس کر رہا ہوں کہ ہم دوسروں کے لیے مثالیں قائم کر رہے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔

پاکستان ایک ملک ہے۔ جہاں اقلیتوں ہر قسم کی آزادی ہے۔ پاکستان میں تمام مذاہب کا احترام کیا جاتا ہے۔ ہمارے اس ملک میں تمام مذاہب کے لوگوں کو اپنی عبادات میں آزادی حاصل ہے۔

اور اس بڑے اقدام سے پاکستان میں سیاحت کا رجحان بھی بڑھے گا۔ اور اس وجہ سے پاکستان کی معیشت کو سہارہ ملے گا۔

مزید پڑھیں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں