برطانوی قانون سازوں نے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔

برطانوی قانون سازوں نے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔

لاہور ۔ لارڈز سمیت برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین نے افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے۔ کہا کہ پورے خطے کا امن افغانستان میں استحکام سے جڑا ہے۔

ان خیالات کا اظہار برطانوی قانون سازوں نے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے ملاقات کے دوران کیا۔

سرور نے 25 سے زائد برطانوی اراکین پارلیمنٹ اور ہاؤس آف لارڈز سے ملاقاتیں کیں۔ جن میں وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت مسٹر مائلز، رکن برطانوی پارلیمنٹ مارک لوگن، جیمز ڈیوس، ثاقب بھٹی، ٹونی لائیڈ، سٹیٹ منسٹر لندن، پال سکلی، گرانیٹ شامل تھے۔ ڈیوس، پال بسٹو، اسٹیون کلینک، ڈنکن اسمتھ، ایم۔ پی۔ افضل خان، جینی چلٹن، لارڈ ضمیر چوہدری، لارڈ ڈینس ٹونی، لارڈ طارق، لارڈ واجد خان، لارڈ میک کوئے، لارڈ نوشینہ مبارک، لارڈ زاہدہ منظور، اور لارڈ جیتیش گڈھیا۔

انہوں نے پاک برطانیہ تعلقات، افغانستان اور خطے کی موجودہ صورتحال اور مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال کیا۔

ملاقاتوں کے دوران گورنر پنجاب نے اراکین پارلیمنٹ۔ اور لارڈز کو وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں قیام امن کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ جس کو تمام اراکین نے سراہا۔

1

ملاقاتوں میں کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور بھارتی مسلمانوں پر بھارتی حکومت کے مظالم پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اور گورنر پنجاب نے برطانیہ کی حکومت پر زور دیا۔ کہ وہ کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں پر بھارتی مظالم کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ دنیا افغانستان کو چھوڑ کر غلطی نہ کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مختلف عناصر افغانستان میں امن کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا۔ کہ آج افغان عوام کو صحت کی دیکھ بھال اور خوراک جیسے بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ جس کے خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں۔

سرور نے کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم پہلے دن سے دنیا پر واضح کر رہے ہیں کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پوری دنیا کے لیے ناگزیر ہے۔ افغانستان میں تباہ کن صورتحال سے بچنے کے لیے دنیا کو بھی آگے بڑھنا چاہیے اور افغانستان پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیریوں پر بدترین مظالم کر رہا ہے۔ بے گناہ کشمیریوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے اور نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے یہ مظالم خطرناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔ برطانیہ سمیت پوری دنیا کو مسئلہ کشمیر کے حل اور وہاں جاری مظالم کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں