پی اے سی نے 29 نومبر تک نیب چیرمین کو پیش نہ ہونے کی صورت میں کاروائی کا انتباہ دیا

پی اے سی نے 29 نومبر تک نیب چیرمین کو پیش نہ ہونے کی صورت میں کاروائی کا انتباہ دیا

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پیر کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کے 29 نومبر تک پینل کے سامنے پیش نہ ہونے کی صورت میں کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔

دی نیوز نے رپورٹ کیا کہ قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کی صدارت کرتے ہوئے، نور عالم خان نے کہا کہ اگر چیئرمین نیب 29 نومبر تک قومی اسمبلی کے سامنے پیش نہیں ہوتے ہیں، تو وہ اپنے اختیارات استعمال کریں گے۔
بار بار طلبی کے باوجود چیئرمین نیب کے پی۔ اے۔ سی۔ کے سامنے پیش ہونے سے انکار نے ذیلی کمیٹی کے ممبران کو ناراض کیا۔ جنہوں نے خبردار کیا کہ پینل ان کے خلاف اپنے اختیارات استعمال کرے گا۔

پی۔ اے۔ سی۔ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس 2010-17 کے نیب اکاؤنٹس کی تخصیص اور 2011 سے 2017 تک کے اس کے آڈٹ پیراز اور 2015-18 کے دوران نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے متعلق امور کا جائزہ لینے کے لیے منعقد ہوا۔

چیئرمین نیب جو کہ اس کے پرنسپل اکاؤنٹس آفیسر (PAO) بھی ہیں۔ کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پی۔ اے۔ سی۔ کی ذیلی کمیٹی کے کنوینر نے چیئرمین نیب کو یقین دلایا کہ ان کے خلاف کوئی ذاتی حملہ نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ صرف آڈٹ اعتراضات کا جواب دیا جائے گا۔ آڈٹ پیراز مانگے جائیں گے۔

1

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ میں آنے سے نہیں ڈرنا چاہیے۔

عالم نے کہا کہ چیئرمین نہیں آ سکتے تو پی۔ اے۔ او۔ کو پی۔ اے۔ سی۔ کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔ انہوں نے میٹنگ میں شریک نیب افسران سے کہا کہ ‘مجھے تحریری طور پر بتائیں کہ پرنسپل اکاؤنٹس آفیسر کب پیش ہوں گے۔ اگر آپ نہیں آتے تو میں اپنے اختیارات استعمال کروں گا’، جنہوں نے تیاریوں کے لیے کچھ وقت مانگا تھا۔

کمیٹی کے رکن نوید قمر نے کہا کہ ’پارلیمنٹ کو نظر انداز کرنا قابل قبول نہیں۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے کنوینر نور عالم خان نے مزید کہا کہ وہ ذاتی طور پر چیئرمین نیب کو خوش آمدید کہیں گے۔

بعد ازاں خواجہ آصف اور نوید قمر کی درخواست پر نور عالم خان نے نیب کے پی۔ اے۔ او۔ کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دے دی۔

اس سے قبل نیب حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈی جی نیب اکاؤنٹس کے معاملات دیکھتے ہیں اور انسداد بدعنوانی کے ادارے نے پی اے سی کے لیے الگ افسر کی تقرری کی سمری بھیج دی ہے۔

ڈی جی نیب نے اس معاملے کا حل تلاش کرنے کے لیے تین سے چار ہفتے کی مہلت مانگی جس کے بعد خواجہ آصف نے کہا کہ انہیں مناسب وقت دیا جائے ورنہ پی اے سی اپنا لائن آف ایکشن لے گی۔

پی اے سی کی ذیلی کمیٹی نے نیب کو 29 نومبر تک ایک ہفتہ کا وقت دیتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر پی اے سی کے سامنے پیش نہ

ہوئے تو وہ آئندہ لائحہ عمل اختیار کرے گی۔

مزید پڑھیں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں