ٹی ایل پی کی حکومت کے ساتھ ڈیل، French Ambassador کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ ترک کر دیا۔

ٹی ایل پی کی حکومت کے ساتھ ڈیل، French Ambassador کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ ترک کر دیا۔

ٹی ایل پی کی حکومت کے ساتھ ڈیل، French Ambassador کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ ترک کر دیا۔

حکومت کی مذاکراتی ٹیم نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ساتھ معاہدہ طے پا لیا گیا ہے۔

مفتی منیب الرحمان، جو حکومت کی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کی تفصیلات لوگوں کے ساتھ “مناسب وقت” پر شیئر کی جائیں گی۔

تاہم، پاکستانی میڈیا کے ایک حصے نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے اہم نکات کو ظاہر کیا۔

ذرائع کے مطابق ٹی ایل پی نے مبینہ طور پر French Ambassador کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ ترک کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، ذرائع کے مطابق، دہشت گردی اور دیگر مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنے والے ٹی ایل پی کے کارکنوں کو عدالتوں سے ریلیف لینا پڑے گا، لیکن حکومت اس سال کے اوائل میں مذہبی گروپ کے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران درج دیگر تمام افراد کو رہا کرے گی۔

2

دونوں فریقوں نے ایک معاہدہ کیا ہے کہ ٹی۔ ایل۔ پی۔ ایک سیاسی جماعت کے طور پر مرکزی دھارے کی سیاست میں شامل ہو گی۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ حکومت ٹی۔ ایل۔ پی۔ کی قیادت میں تازہ ترین احتجاجی تحریک میں حصہ لینے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔

مظاہرین ایک یا دو دن کے اندر احتجاج کے مقام سے نکل جائیں گے۔ اور آج رات (اتوار کی رات) مختلف شاہراہوں اور سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹا دیں گے۔

کہا جاتا ہے کہ مفتی منیب الرحمان نے حکومت اور ٹی۔ ایل۔ پی۔ کے درمیان امن معاہدے میں ضامن کا کردار ادا کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر اور وفاقی وزیر علی محمد خان نے ٹی۔ ایل۔ پی۔ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

مبینہ معاہدہ تقریباً دو ہفتوں کی جھڑپوں کے بعد ہوا ہے جس میں دونوں طرف سے کم از کم سات پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

ایک طنزیہ میگزین میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر کالعدم مذہبی گروپ نے اپنے سربراہ سعد رضوی کی جیل سے رہائی اور فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکالنے کے لیے مارچ شروع کیا تھا۔

..مزید پڑھیں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں